شعبہ اردو، داؤد نگر کالج، داود نگر.
اردو مشترکہ تہذیب کی زبان ہے. ہندوستان کی ہزار سالہ تہذیب و ثقافت کی علامت ہے. ایک ایسی زبان جس کی ابتدا و ارتقاء میں ہندوستانیوں کا خون جگر صرف ہوا. روشن خیال اور انسان دوست شخصیتوں نے اس کی آبیاری کی. اسی زبان کے وسیلے سے ملک میں محبت و اخوت کے پیام کو عام کیا. دلوں کو جوڑا اور امن و آتشی کے پرچم کو بلند کیا. اس لیے جگر مراد آبادی نے کہا کہ
وہ ان کا کام وہ اہل سیاست جانے
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
یہی وجہ ہے کہ محبت و اخوت کے علمبرداروں نے اس زبان کو دل سے لگایا اور دلوں پر جان دینے والوں کو اپنے ساتھ جوڑا. اور پھر
لوگ ساتھ آتے گیے اور کارواں بنتا گیا
اس زبان کے چاہنے والوں نے دل و جان سے اسے چاہا. اور انسان کی اور انسانی معاشرے کو رقم کیا. ہزاروں سالوں کی تہذیب و ثقافت کونہ صرف سمیٹا بلکہ عوام تک پہنچانے کا کام بھی کیا. بادشاہت کی داستانیں بھی رقم کیں اور عام انسانوں کے حقائق کو بھی پیش کیا.
یہ زبان نہ صرف تہذیب و ثقافت ہے بلکہ اظہار ذات بھی ہے. اس کے علاوہ ذریعہ معاش کا وسیلہ بھی ہے. ارود محبت کرنے کی زبان ہے. محبت اپنی ذات سے. حیات سے اور کائنات سے. مخدوم محی الدین نےکیا خوب کہا ہے کہ
حیات لے کے چلو، کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
میں ابوالکلام مسرورالہادی. میں اس شعبہ اردو سے منسلک ہوں. اس شعبہ سے منسلک درس و تدریس کی مجھے ذمہ داری سونپی گئی ہے.یعنی میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر بحال ہوں.
Dr. Abul kalam Masroorul Hadi. Assistant professor. Department of urdu. Daudnagar College Daudnagar Magadh University. Aurangabad. Bihar